31 جولائی، 2026، 8:44 AM

اردن میں سیکڑوں ممتاز شخصیات کا امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ

اردن میں سیکڑوں ممتاز شخصیات کا امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ

سیاست دانوں، قانون دانوں اور ریٹائرڈ فوجی افسران نے کھلے خط میں امریکی فوجی موجودگی کو اردن کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اردن کی متعدد سیاسی، قانونی اور سماجی شخصیات نے ایک کھلے خط پر دستخط کرتے ہوئے ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اقدام کو اردن کی حکومتی پالیسیوں کے خلاف حالیہ برسوں کے نمایاں عوامی احتجاجوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس خط پر سیاست دانوں، قانون دانوں، معاشرتی شخصیات، ریٹائرڈ فوجی افسران اور دیگر معروف عوامی شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔ 

خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی نے اردن کو سلامتی، سیاسی اور اقتصادی خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور ملک کو ایسی علاقائی جنگ میں گھسیٹے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس کے آغاز میں اردن کا کوئی کردار نہیں تھا۔

خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی سے اردن کو کوئی قومی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا، بلکہ اس کے نتیجے میں ملک کو مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران، امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان کشیدگی اور جنگ میں اضافے کے ساتھ اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد بار خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق اردن میں تقریبا چار ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور یہ ملک خطے میں واشنگٹن کے اہم فوجی آپریشنل مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اردن کی حکومت نے تاحال اس کھلے خط پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی محدود فضا کے باوجود اس نوعیت کا خط جاری کرنا دستخط کنندگان کے لیے ایک غیر معمولی اقدام ہے۔

News ID 1940489

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha